نئی دہلی،31؍مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سیلنگ کے خلاف بھوک ہڑتال نہ کرنے کی خبر آتے ہی اروند کیجریوال مخالفین اور تاجروں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی اور ٹریڈ ونگ کے لیڈروں نے بھوک ہڑتال کے اعلان اور بعد میں اسے ٹالنے پر صفائی دیتے ہوئے کیجریوال کا دفاع کیا ہے۔بھوک ہڑتال ٹالنے کے سوال پر عام آدمی پارٹی کے کستوربا نگر سے رکن اسمبلی مدن لال کا کہنا ہے کہ 2 اپریل سے سپریم کورٹ میں اپیل پر سماعت ہو رہی ہے اور ایسے وقت میں بھوک ہڑتال کو دباؤ بنانے کی پالیسی کی وضاحت کرے گا لیکن ہمیں دباؤ نہیں بلکہ اپنا موقف سپریم کورٹ میں مضبوطی سے رکھنا ہے۔آگے آپ ممبر اسمبلی مدن لال نے کہا کہ فی الحال قانونی جنگ لڑنے کے علاوہ بی جے پی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسا بل لائے تاکہ ایک سال یا اس سے زیادہ وقت کے لئے سیلنگ سے نجات مل سکے۔اس دوران بی جے پی پالیسی بنائے تاکہ سیلنگ جیسے معاملے کا حل نکلے اور تاجروں کو فائدہ ملے۔بھوک ہڑتال کا اعلان کرنے کے سوال پر ایم ایل اے نے جواب دیا کہ اس وقت کی سپریم کورٹ میں سماعت اور 2اپریل کو شروع ہونے والی سماعت میں بہت فرق ہے۔اس وقت کی نگرانی کمیٹی کو حکم تھا کہ جہاں جہاں غیر قانونی ہو وہاں ایکشن لیا جائے۔فی الحال بہتر سے بہتر وکیل سپریم کورٹ میں مقرر کرکے راحت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔حالانکہ عام آدمی پارٹی کا خیال ہے کہ سیلنگ کی اصل ذمہ دار کانگریس ہے۔مدن لال نے بتایا کہ اپیل کا سلسلہ 2006 میں شروع ہوا تب کانگریس کی حکومت ریاست اور مرکز دونوں جگہ تھی۔اس وقت کانگریس کی حکومت سیلنگ سے بچانے کے لئے ایک آرڈیننس لے کر آئی، جہاں ایک سال کی مہلت دی گئی تھی۔کانگریس نے وعدہ کیا تھا کہ ایک سال کے دوران پالیسی بنائی جائے گی تاکہ سیلنگ یا دیگر کارروائی سے تاجروں کو بچایا جا سکے۔آپ کا الزام ہے کہ کانگریس نے 2007 سے 2014 تک ریاست یا مرکز کے اقتدار میں رہتے ہوئے کچھ نہیں کیا۔مدن لال نے اپنے وزیر اعلی کے اعلان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج بھوک ہڑتال کا کوئی جواز نہیں ہے۔تاجروں کے ساتھ کوئی خیانت نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس سے لے کر بی جے پی تک کسی نے سیلنگ سے راحت نہیں دلائی جبکہ عام آدمی پارٹی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ بھوک ہڑتال آگے بھی کر سکتے ہیں لیکن فی الحال بھوک ہڑتال سے حل نہیں نکلے گا۔